عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 90
90 ہر ایک پہلو اپنی ذات میں اہمیت کا حامل ہے وہاں یہ بھی نہایت اہم ہے کہ ہر پہلو دوسرے پہلو سے باہمی ربط رکھتا ہے۔مثال کے طور پر معاشرہ میں امن کے قیام کا سب سے بنیادی عصر گھر یلوسکون اور ہم آہنگی ہے۔کسی بھی گھر کی صورتحال صرف گھر تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا اپنے ماحول پر بھی گہرا اثر ہوتا ہے اور پھر اس کا اثر وسیع ہو کر شہر کے امن پر اثر انداز ہوتا ہے۔اگر گھر میں بے سکونی ہو تو اس کا اثر مقامی ماحول پر ہوگا اور پھر قصبہ یا شہر پر ہوگا۔اسی طرح ایک شہر کی امن کی صورتحال پورے ملک کی مجموعی صورتحال پر اثر انداز ہوگی اور پھر پورے ملک کی صورتحال ریجن یا تمام دنیا کے امن وسکون پر اثر ڈالے گی۔لہذا یہ بات واضح ہے کہ اگر آپ امن کے صرف ایک پہلوکوزیر بحث لانا چاہتے ہیں تو آپ کو دیکھنا ہوگا کہ اس کا دائرہ محدود نہیں ہے بلکہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی امن متاثر ہو وہاں دوبارہ امن بحال کرنے کے لیے ظاہری وجوہات اور پس پردہ اصل وجوہات پر بنا کر کے مختلف حکمت عملیاں درکار ہوتی ہیں۔جب ہم اس بات کو ذہن میں رکھیں تو یہ واضح ہے کہ ان تمام مسائل پر تفصیلی بحث کرنا اُس سے بہت زیادہ وقت چاہتا ہے جتنا وقت اب میسر ہے۔تاہم میں کوشش کروں گا کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کے چند پہلوؤں کا احاطہ کرسکوں۔دور حاضر میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے خلاف بہت سے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اور دُنیا کی بدامنی اور فساد کا اکثر الزام مذہب کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔لفظ اسلام کا مطلب ہی امن اور سلامتی ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود اس پر ایسے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔مزید یہ کہ اسلام ایسا مذہب ہے جو دنیا میں امن کے قیام کے لیے معتین راہنمائی دیتا ہے اور اس مقصد کے قیام کے لیے مختلف اصول وضع کرتا ہے۔قبل اس کے کہ میں آپ کے سامنے اسلام کی امن پسند اور سچی تعلیم کی ایک جھلک پیش کروں، میں اختصار کے ساتھ دنیا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لوں گا۔مجھے یقین ہے کہ آپ ان معاملات کو پہلے ہی سے بہت اچھی طرح جانتے ہوں گے لیکن میں اس کو واضح کرنا چاہتا ہوں تا کہ جب میں اسلام کی حقیقی تعلیم پیش کروں تو اس وقت یہ ساری صورتحال آپ پر متحضر ہو۔ہم جانتے ہیں بلکہ سب اس بات کو مانتے ہیں کہ دنیا ایک گلوبل و پیچ بن چکی ہے۔جیسا کہ جدید ذرائع آمد ورفت یا میڈیا، انٹرنیٹ اور متعدد دیگر ذرائع سے ہم سب باہم ملے ہوئے ہیں۔