اُردو کی کتب (ابتدائی قواعد) — Page 84
اُردو قواعد علامات تحریر عزیز طلبا اُردو میں جب کوئی عبارت لکھیں تو مندرجہ ذیل علامات کو محوظ رکھیں ور نہ لکھتے اور پڑھتے وقت عبارت کا مفہوم بگڑ جائے گا۔ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک آدمی جیوتشی کے پاس گیا اور پوچھا کہ میرے گھر لڑکا ہوگا یا لڑکی۔جیوتشی نے کہہ دیا : وو لڑکا نہ لڑکی “ سائل نے اس کے کہنے سے یہ سمجھ لیا کہلڑ کا ہوگا لڑکی نہ ہو گی۔کچھ عرصہ کے بعد لڑکی پیدا ہوئی تو وہ جیوتشی کے پاس گیا۔چیونٹی نے کہا کہ میں نے بھی تو یہی کہا تھا لڑکا نہ، لڑکی ، کہ لڑکا نہیں ہوگا بلکہ لڑکی ہوگی۔دوسری مثال یہ ہے کہ جیسے کہا جائے : (۱) روکو، مت جانے دو۔اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ جانے والوں کور وکو، انہیں جانے نہ دو۔(۲) روکومت، جانے دو۔مطلب بالکل برعکس ہو گیا کہ روکو نہیں ، جانے دو۔اگر آپ کسی کتاب کا درس دیتے وقت یا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ پڑھ کر سناتے وقت ان علامات کو پیش نظر نہیں رکھیں گے، تو سامعین کچھ نہ سمجھ سکیں گے۔