اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 107
زكوة: اُردو کی کتاب چهارم زکوۃ انفاق فی سبیل اللہ کی وہ قسم ہے جو ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو ز کوۃ کے نصاب کے تحت آتا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قرار دیا ہے۔چندہ عام الگ ہے اور زکوۃ الگ ہے: حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔" تیسری چیز چندہ ہے جو دین کے جہاد کیلئے ہوتا ہے۔یہ جہاد خواہ تلوار سے ہو یا قلم اور کتب سے یہ بھی ضروری ہے۔کیونکہ زکوۃ اور صدقہ غرباء کو دیا جاتا ہے اس سے کتابیں نہیں چھاپی جاسکتیں اور نہ مبلغوں کو دیا جاسکتا ہے۔ملائکۃ اللہ صفحہ ۶۲ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۰ء) زکوۃ کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے برابر نقدی اور زیور ہے اور اس کا چالیسواں حصہ ادا کرنا ہوتا ہے اور ایک سال تک پڑی رقم پر ادائیگی فرض ہے۔اس زیور پر بھی اس کا نصاب لاگو ہوگا جو ایک سال تک پہنا نہ جائے یا