اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 39
اُردو کی کتاب چهارم بنیاد ڈالی اور لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔اس روز چالیس افراد بیعت کر کے اس سلسلہ میں داخل ہوئے۔بیعت کرنے والوں میں اولیت کا شرف حضرت حاجی الحرمین حکیم مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا جو بعد میں آپ کے خلیفہ اول منتخب ہوئے۔۱۸۹۰ء میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا۔اس اعلان کے ساتھ ہی آپ کے خلاف ایک طوفان بے تمیزی امڈ آیا۔بڑے بڑے علماء نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے دئے لیکن خدائے تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نشانات پے در پے ظاہر ہورہے تھے آپ نے تمام سجادہ نشینوں ، پیروں ، فقیروں کو مقابلہ کی دعوت دی۔مباحثات و مناظرات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور لوگوں پر آپ کی صداقت منکشف ہوتی چلی گئی۔پھر آپ نے ملکفر علماء کو دعوت مباہلہ بھی دی کہ اگر چاہیں تو اس رنگ میں خدائے تعالی کے فیصلہ کو دیکھ لیں۔علماء کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لیڈروں اور نمائندوں کو بھی مقابلہ کے لئے للکارا۔ہندوؤں میں سے پنڈت لیکھرام ، عیسائیوں میں سے پادری عبد اللہ آتھم اور امریکہ کا جھوٹا مدعی نبوت ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوئی اور مسلمانوں میں سے رسل بابا امرتسری ، چراغ دین جمونی، رشید احمد گنگوہی ، عبد الرحمن محی الدین لکھو کے والے ، مولوی گلام دستگیر قصوری، محمد ۳۹