اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 113
اُردو کی کتاب چهارم اور آپ کو کئی ہزار حدیثیں زبانی یاد تھیں۔ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب آپ کے معتقد تھے۔آپ کے علم و تقویٰ کی بنا پر ہی آپ کو اس وقت کے نئے امیر (بادشاہ) افغانستان حبیب اللہ خان کی دستار بندی کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔قبول احمدیت: ۱۸۹۴ء میں ہندوستان اور افغانستان کی سرحدوں کی تعیین کے لئے کمیشن مقرر ہوا تو برطانوی گورنمنٹ کی طرف سے سر مار ٹیمر ڈیورنڈ اور نواب عبد القیوم خان آف ٹوپی ممبر مقرر ہوئے اور افغانستان کی طرف سے سردار شر مندل خان گورنر سندھ جنوبی اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب تجویز ہوئے کمیشن نے ۲۹ مئی ۱۸۹۴ء سے ۳ دسمبر ۱۸۹۴ء تک چھ ماہ میں اپنا حد بندی کا کام ختم کرلیا اور وہ تاریخی ڈیورنڈ لائن قائم ہوئی جو آج بھی پاکستان اور افغانستان کی حد فاصل ہے۔حسن اتفاق سے کمیشن کے محرر پشاور کے سید چن بادشاہ صاحب نے ایک مرتبہ دوران گفتگو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کا ذکر کیا جس سے حضرت عبدالطیف صاحب بہت متاثر ہوئے سید چن بادشاہ صاحب نے آپ کی خواہش دیکھی تو حضور کی تصنیف آئینہ کمالات اسلام پیش کی جس کے مطالعہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بے حد محبت