اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 38
اعلانِ ماموریت و مسیحیت : اُردو کی کتاب چهارم ۱۸۸۲ء میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماموریت کا پہلا الہام نازل ہوا اور آپ کو یہ علم دیا گیا کہ اس زمانہ میں تجدید دین اور احیائے اسلام کی خدمت آپ کے سپرد کی گئی ہے تاہم آپ نے باقاعدہ فوری طور پر کسی قسم کا دعویٰ نہیں کیا لیکن متواتر الہامات کے باعث ۱۸۸۵ء میں آپ نے اپنے آپ کو محض مجد دوقت کی حیثیت سے پیش کیا حالانکہ جو الہامات ۱۸۸۳ء میں اور اس کے بعد ہوئے ان میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے صریح طور پر مسیح، نبی اور نذیر کے ناموں سے یاد کیا تھا بات دراصل یہ ہے کہ آپ فدائیت کے نہایت اعلیٰ مقام پر تھے اور طبیعت میں اس درجہ انکسار پایا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان بزرگ خطابات کی یہی تو جیہہ کرتے کران سے مقصود محض کثرت مکالمہ و مخاطبہ ہے اور زیادہ وضاحت ہوئی تو ایک عرصہ تک اپنے مقام کو جزوی نبوت سے تعبیر کرتے رہے لیکن پھر ۱۸۹۰ء اور ۱۹۰۰ء کے درمیانی عرصہ میں آپ پر اس امر کا کامل انکشاف ہو گیا کہ آپ نبوت کے مقام پر ہی فائز ہیں اس رنگ میں کہ ایک پہلو سے آنحضرت کے امتی ہیں اور کثرت مکالمہ الہیہ کے لحاظ سے نبوت کے مقام پر فائز ہیں۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ۳۸