اُردو کی کتب (کتاب چہارم)

by Other Authors

Page 33 of 189

اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 33

اُردو کی کتاب چهارم الگ ہو گیا ہے کہ کیوں ثالثی کی تجویز کو قبول کیا گیا انہوں نے اپنا ایک الگ امیر مقرر کر لیا اور اس طرح مسلمان تین گروہوں میں بٹ گئے۔حضرت علی نے ان کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر تیار کیا پہلے تو انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب وہ ضد پر قائم رہے تو دونوں لشکروں میں خونریز جنگ ہوئی اور کئی ہزار خارجی مارے گئے صرف چند لوگ زندہ بیچ رہے۔شہادت: اگر چہ خارجیوں کو شکست ہوگئی لیکن ان شوریدہ سر لوگوں نے سوچا کہ کامیابی اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ حضرت علی، امیر معاویہ، اور عمرو بن عاص تینوں کو بیک وقت قتل کر دیا جائے چنانچہ انہوں نے اس بارے میں منصوبہ تیار کیا۔امیر معاویہ پر حملہ کارگر نہ ہوا۔عمرو بن عاص ضعین وقت پر باہر چلے گئے اس لئے بیچ گئے لیکن جو شخص حضرت علی کو قتل کرنے کیلئے مقرر ہوا وہ قاتلانہ حملہ میں کامیاب ہوا۔اس طرح حضرت علی ۲۰ رمضان ۴۰ ہجری کو پونے پانچ سال کی خلافت کے رض بعد تریسٹھ سال کی عمر میں شہید کر دیئے گئے۔(بحوالہ دینی نصاب ۲۲۳) ۳۳