اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 170
تسبق نمبر ۲۳۰ اُردو کی کتاب چهارم نظ بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں ہوں بندہ مگر میں خدا چاہتا ہوں میں اپنے سیاہ خانہ دل کی خاطر وفاؤں کے خالق ! وفا چاہتا ہوں جو پھر سے ہرا کر دے خشک ہر پودا چمن کے لئے وہ صبا چاہتا ہوں مجھے پیر ہرگز نہیں ہے کسی سے میں دُنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں وہی خاک جس سے بنا بنا میرا پتلا میں اس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں 12۔