اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 142
اُردو کی کتاب چهارم میرے لئے اس سفر کے مقصد نیک کی وجہ سے رہنما بنا دیا۔کوئی ایک گھنٹہ یا زیادہ سفر کرنے کے بعد ہم باغ کے آخری سرے پر پہنچے اس کے آگے پایاب پانی کی ڈھاب تھی اور پزادہ کے متصل گنے کا رس نکالنے کا ایک بیلنہ تھا جو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قادیان کے ایک مشہور ارائیں کا تھا پانی کے کنارے پہنچ کر ہم نے زور سے پوچھا کہ راستہ میں پانی کتنا گہرا ہے جواب ملا آؤ گہر انہیں۔اس وقت آگے صرف خالی اراضی تھی اور مہمان خانہ کا وہ حصہ جو ایک زمانہ میں پریس اور پھر رتھ خانہ اور موٹر خانہ ہوا اس میں چراغ جلتا تھا اور روشنی تھی اس بیلنا پر پہنچ کر راستہ پوچھا تو انہوں نے اس چراغ کا نشانہ دیکھ کر کہا کہ: وہ چراغ مہمان خانہ میں جلتا ہے انسان جذبات اور تاثرات کا پتلا ہے اور میرے دماغ کو ایک مناسبت ہے کہ وہ مشاہدات سے تأثرات پیدا کرتا ہے اور ایک خوشی کی لہر پیدا ہوئی کہ یہ مبارک فال ہے ہمیں روشنی رہنمائی کر رہی ہے۔غرض وہاں پہنچے رمضان کا مہینہ تھا لوگ تہجد اور سحری کے لئے اٹھے ہوئے تھے۔حضرت حافظ حامد علی صاحب ۱۴۲