اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 143
اُردو کی کتاب چهارم رضی اللہ عنہ ہی ناظر ضیافت ( کہنا چاہئے ) تھے۔ان سے لدھیانہ میں ملاقات ہو چکی تھی۔وہ بڑی محبت سے اور بنتے ہوئے ملے اور گول کمرہ میں لے گئے۔انہوں نے بے وقت آمد کی کیفیت سنی تو حیران ہوئے اور حضرت اقدس کو اسی وقت اطلاع دی وہ رحم و کرم کا پیکر اسی وقت آیا اور تکلیف دہ سفر کی کیفیت سے متاثر تھا بار بار فرماتے بڑی تکلیف ہوئی اب کھانا کھا کر آرام کر لو اور حافظ صاحب کو کچھ ہدایات دیں۔حافظ صاحب نے چار پائی اور بستر مہیا کیا میں جب لیٹ گیا تو وہ میرے پاؤں دبانے کو لیکے۔میں نے عذر کیا مگر وہ رکتے نہ تھے آخر میں انہوں نے فرمایا ( وہ آہستہ بولتے تھے ان کی آواز اور حرکات اس وقت میری آنکھوں اور کانوں میں موجود ہیں ) مرزا صاحب نے مجھے حکم دیا ہے کہ بہت تھک گئے ہیں ان کی خدمت کرو۔میری آنکھوں میں آنسو آ گئے یہ شفقت اور کرم اور یہ شان مہمان نوازی۔(بحوالہ حیات احمد جلد دوم صفحہ ۲۵۸) ۱۴۳