اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 118
اُردو کی کتاب چهارم وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بڑی حسرت کے ساتھ رخصت ہوئے۔شہادت: اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت پہلے ہی یہ خبر دے دی تھی شَاتَانِ تُذْبَحَانِ وَكُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائے علم التعبیر میں شاۃ“ کی تعبیر نہایت پر مطیع اور فرمانبردار رعایا بھی ہوتی ہے لہذا بتایا گیا کہ وہ آدمی اپنے بادشاہ کا نہایت مطیع ہوگا۔باوجود یہ کہ انہوں نے کوئی قانون شکنی نہ کی ہوگی وہ قتل کئے جائیں گے۔اس کے بعد اس ملک پر ایک عام تباہی آئے گی چنانچہ یہ الہام پہلی بار حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ذریعہ پورا ہوا جنہیں وسط 1901ء میں گردن میں کپڑا ڈال کر گلا گھونٹ کر نہایت بے دردی سے افغانستان میں وہاں کے بادشاہ عبد الرحمن خان کے حکم سے شہید کروا دیا گیا تھا اور دوسری دفعہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء کو حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ذریعہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔آپ ابھی قادیان میں ہی تھے کہ بعض رؤیا و کشوف کی بنا پر آپ کو یقین ہو گیا تھا کہ سرزمین افغانستان احمدیت کی تبلیغ کے لئے ان کے لہو کی پیاسی ہے اور آپ بار بار اس کا اظہار بھی فرماتے جاتے تھے۔الغرض ۱۱۸