اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 117
اُردو کی کتاب چهارم نورالدین صاحب سے درخواست کر کے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ میں نے اس لئے کیا کہ میں مولانا کے شاگردوں میں شامل ہو جاؤں کیونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ اول ہوں گے۔شہید مرحوم ۱۸ نومبر ۱۹۰۲ء کو قادیان تشریف لائے تھے اور آخر جنوری ۱۹۰۳ء کو واپس اپنے وطن جانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع ایک گروہ کثیر الوداع کہنے کیلئے دُور تک بٹالہ کی سڑک پر تشریف لے گئے آخر جب شہید مرحوم رخصت ہونے لگے تو وہ سڑک پر حضور کے قدموں پر گر پڑے اور جدائی کے غم کے مارے ان کی چیخیں نکل گئیں اور زار زار رونے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بڑی مشکل سے اُٹھایا اور تسلی دی اور رخصت کیا۔حضرت مولانا شیر علی صاحب بیان فرماتے ہیں کہ جب صاحبزادہ صاحب واپس افغانستان جانے لگے تو وہ کہتے تھے کہ میرا دل یہ کہتا ہے کہ میں اب زندہ نہیں رہوں گا میری موت آ پہنچی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس ملاقات کو آخری ملاقات سمجھتے تھے۔رخصت ہوتے وقت وہ حضور کے قدموں میں گر کر زار زار رونے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو اُٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے مگر وہ حضور کے قدموں پر گرے رہے آخر آپ نے فرمایا الأَمْرُ فَوْقَ الْآدَبِ اس پر