اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 114
اُردو کی کتاب چهارم ہوگئی۔انہوں نے حضور سے رابطہ قائم کرنے کے لئے اپنے بعض خاص شاگردوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں قادیان بھیجنا شروع کیا۔آپ کے یه مخلص شاگرد قادیان میں حضرت اقدس کی صحبت میں کچھ وقت گزارتے اور تازہ تالیفات لیکر حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس آتے اس طرح حضور کے تازہ حالات کا بھی علم انہیں ہوتا رہتا۔ماہ دسمبر ۱۹۰۰ء میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب کو اپنے چند شاگردوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اپنی بیعت کا خط دیگر بھجوایا نیز حضور کے لئے کچھ خلعتیں بھی تحفہ کے طور پر بھجوائیں۔سفر قادیان: ۱۹۰۲ء میں شہید مرحوم نے حج کا ارادہ کیا اور اس غرض کے لئے آپ کابل سے روانہ ہوئے۔بادشاہ حبیب اللہ خان نے بڑی عزت واحترام سے روانہ کیا اور کابل سے خوست اور وہاں سے لاہور تشریف لائے اور ارادہ کیا کہ چند دن قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کر کے اگلا سفر کروں گا۔آپ ریل گاڑی کے ذریعہ لاہور سے بٹالہ تشریف لائے۔ان دنوں قادیان تک ریل گاڑی نہیں آتی تھی۔بٹالہ سے پیدل قادیان تشریف لائے اور جب قادیان پہنچے تو بلند آواز ۱۱۴