اُردو کی کتب (کتاب سوم)

by Other Authors

Page 68 of 111

اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 68

اُردو کی کتاب سوم : سے انکار کر دیا لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آگے جو کچھ ہو اوہ اس قدر ایمان پرور بات ہے کہ تمام مذاہب و ملل کی تاریخ اس کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی۔خودلر کی اندر یہ ساری گفتگوسن رہی تھی اس کے باپ نے حضرت سعد کو جو جواب دیا اسے سنکر وہ تو واپس ہو گئے اور اس کے سوا وہ اور کر بھی کیا سکتے تھےلیکن لڑکی خود باہر نکل آئی۔حضرت سعد کو آواز دے کر واپس بلایا اور کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ آپ کی شادی کی تجویز کی ہے تو پھر اس میں چوں و چرا کی کیا گنجائش باقی رہ سکتی ہے یہ تجویز مجھے بسر و چشم منظور ہے اور میں اس چیز پر بخوشی رضامند ہوں جو خدا اور اس کے رسول کو پسند ہے۔اور ایمانی جرات سے کام لیکر باپ سے کہا کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تجویز سے اختلاف کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے اور بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور قبل اس کے کہ وحی الہی آپ کو رُسوا کر دے اپنی نجات کی فکر کیجئے۔لڑکی کی اس ایمان افروز تقریر کا اس کے باپ پر بھی خاطر خواہ اثر ہوا اُن کو اپنی غلطی کا پوری طرح احساس ہو گیا اور فوڑا بھاگے ہوئے دربار نبوی میں پہنچے اور کہا یا رسول اللہ مجھ سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی مجھے سعد کی بات کا یقین نہ آیا تھا اور میں نے خیال کیا کہ وہ یونہی یہ بات کہہ رہے ہیں اس لئے انکار کیا۔مگر اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ۶۸