اُردو کی کتب (کتاب سوم)

by Other Authors

Page 52 of 111

اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 52

سبق نمبر : ۱۵: : اُردو کی کتاب سوم : قانون سے کوئی بالا نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قبیلہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی کیونکہ اسلامی قوانین کے مطابق چوری کرنے والے کے ہاتھ کائے جاتے تھے اس لئے اُن کو فکر ہوئی کہ اگر اس معزز قبیلہ کی عورت کے ہاتھ کاٹے گئے تو ہماری رسوائی ہوگی۔اس لئے انہوں نے سوچا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہا جائے کہ یہ بہت معزز خاندان کی عورت ہے اس لئے اس کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔اب سوال پیدا ہوا کہ یہ کہنے کون جائے ؟ تو سب نے کہا کہ حضرت زید ( جو کسی زمانہ میں حضور کے متمنی تھے ) کے بیٹے اسامہ کو بھیجا جائے کیونکہ حضور اس سے بہت محبت کرتے ہیں اس لئے امید ہے کہ ان کی سفارش منظور فرمالیں گے۔انہوں نے حضرت اسامہ کو اس کے لئے آمادہ کیا جب حضرت اسامہ نے اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں تم سفارش کرتے ہو؟ پھر حضور نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور فرمایا تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا کوئی بڑا اور با اثر آدمی چوری کرتا تو اس کو مختلف۔۵۲