اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 90
: اُردو کی کتاب سوم : لیتے آویں۔چنانچہ وہ وسط نومبر ۱۹۰۱ء میں حضور کی خدمت میں لائے اور ۱۵ نومبر ۱۹۰۱ء کو نماز عصر کے بعد اس کے ریکارڈ سنائے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی دوسلنڈروں میں آواز ریکارڈ کی۔قادیان میں فونوگراف کا چرچا ہوا تو دوسرے لوگوں میں بھی اس کے دیکھنے کی بڑی خواہش ہوئی۔قادیان کے آریہ سماجی لالہ شرمیت رائے کو تو اس قدر اشتیاق ہوا کہ انہوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی درخواست کردی۔یہ ۲۰ نومبر ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے۔حضور نے نماز ظہر کے وقت حضرت نواب صاحب سے اس کا تذکرہ فرمایا تو نواب صاحب نے اس کی بخوشی اجازت دے دی۔ان لوگوں کا فونوگراف دیکھنا تو محض تماشائی کے رنگ میں تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے تبلیغ کا ایک بھاری ذریعہ بنالیا اور وہ یوں کہ حضور نے چند منٹوں میں خاص اس تقریب کے لئے ایک لطیف اور تبلیغی نظم کہی جس کے ابتدائی دو شعر یہ تھے۔آواز آرہی ہے یہ فونو گراف سے ڈھونڈ و خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے جب تک عمل نہیں ہے دل پاک وصاف سے کم تر نہیں یہ مشغلہ بہت کے طواف سے