اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 77
: اُردو کی کتاب سوم : بھی لوہا گرم کر کے اس کے سر کو داغ دیتے رہتے تھے۔یہ خدائی انتقام تھا۔حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک دن ان سے پوچھا کہ اے خباب سناؤ تمہیں مکہ کے کافروں سے کیا کیا تکالیف پہنچا کرتی تھیں۔خباب۔بولے اے امیر المؤمنین میری پیٹھ دیکھ لو۔حضرت عمر نے دیکھ کر کہا کہ میں نے آج تک ایسی پیٹھے کسی کی نہیں دیکھی۔خباب کہنے لگے کہ آگ روشن کی جاتی تھی اور اس دہکتی آگ پر وہ لوگ مجھے لٹا دیتے تھے اور پکڑ کر دبائے رکھتے تھے یہاں تک کہ میری چربی پگھل کر آگ کو بجھا دیتی تھی۔اب اے پڑھنے والے یہ حال سن کر سچ سچ بتا نا کہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام زبر دستی اور تلوار کے زور سے پھیلا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو جبراً مسلمان بناتے تھے آیا یہ اعتراض ٹھیک ہے ؟ تم فورا بول اٹھو گے کہ ہرگز نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ جوشخص بھی مسلمان ہوتا تھا وہ اپنے دل کی محبت سے اور خدا پر ایمان لاکر مسلمان ہوتا تھا کیا خباب جیسے لوگ زبر دستی مسلمان کئے جاسکتے تھے؟۔( بحوالہ مضامین حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ جلد اول صفحه ۵۰۵) LL