حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 14
حضرت ام حبيبة رض 14 مکہ والوں نے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کی تھی اب ڈر رہے تھے صلى الله کہ صلح توڑنے کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔ابوسفیان کو بھیجا کہ آنحضرت ﷺ سے درخواست کرے کہ صلح حدیبیہ کی مدت بڑھا دیں مگر آنحضور نے نے یہ بات نہ مانی تو ابوسفیان وہاں سے اُٹھ کر اپنی بیٹی کے پاس گئے اور حضور یا اللہ کے بستر مبارک پر بیٹھنے لگے تو حضرت ام حبیبہ نے اس بستر کو لپیٹ دیا ابوسفیان نے کہا۔بیٹی تم اس بستر کو مجھ پر ترجیح دیتی ہو۔بیٹی نے کہا ہاں کیونکہ آپ مشرک ہیں اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ اس بستر پر بیٹھیں۔میں کیسے برداشت کر سکتی ہوں کہ خدا کے نبی کے بستر کو آپ ہاتھ لگائیں جب میں آپ سے جدا ہوئی تھی تو میں کا فرتھی اب مجھے خدا تعالیٰ نے اسلام دیا ہے مجھے علم ہو گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا شان ہے اور آپ کی کیا حیثیت ہے۔اتنے کے ایمان کی حالت دیکھ کر ابو سفیان کو سخت مایوسی ہوئی اور شدید غصے میں کہا : لَقَدْ أَصَابَكِ بَعْدِى شَرًّا۔تو میرے بعد بہت سی خرابیوں