حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 4 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 4

أم المؤمنین حضرت ام سلم 4 ان کی کافرانہ جس نے انہیں شرارت پر آمادہ کر دیا اور انہوں نے ابو سلمیٰ سے کہا کہ تم اکیلے مدینہ جاسکتے ہو لیکن ہم اپنی بیٹی ام سلمیٰ کو ہرگز نہ جانے دیں گے۔چنانچہ ابو سلمی اکیلے ہی مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔یہ دیکھ کر ابو سلمی کے قبیلہ بنو الاسد کو بھی جوش آگیا اور وہ بھی مقابل پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر تم اس سے اس کی بیوی کو جدا کر رہے ہو تو یہ بچہ بھی ام سلمیٰ کے پاس نہ رہنے دیں گے۔ان خدا کے بندوں پر یہ انتہائی آزمائش آئی کہ میاں بیوی اور بچہ تینوں (5)- جدا ہو گئے۔(5) حضرت اُم سلمی رضی اللہ عنھا کا دل اپنے بچے اور خاوند سے جدا ہو کر انتہائی غمگین تھا۔اُن کا یہ طریق بن گیا کہ روزانہ اس جگہ پر جہاں سے انہیں اُن کے عزیز خاوند اور پیارے بیٹے سے جُدا کیا گیا وہاں شام تک بیٹھ کر روتی رہتیں۔اس جگہ کا نام اصلح تھا۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر کس طرح مہربان ہوتا ہے اس کا اندازہ انسان لگا ہی نہیں سکتا۔ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت اُم سلمی ٹیلے پر اُداس بیٹھی رو رہی تھیں کہ اُن کے قبیلہ کا ایک شخص وہاں سے گزرا۔آپ کی یہ حالت دیکھی تو اُسے بہت ترس آیا۔واپس جا کر وہ اپنے قبیلے والوں سے کہنے لگا کہ اس غریب پر کیوں ظلم کرتے ہو، اس کو جانے دو اور اس کا بچہ بھی اس کے حوالے کر دو۔قبیلہ والوں نے اُس کی یہ بات مان لی اور ام سلمیٰ کو اس کا بچہ دے کر مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔چنانچہ آپ بچہ