حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 10 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 10

اُم المؤمنین حضرت ام سلمى 10 جاتے کیونکہ وہ ہم میں سب سے بڑی تھیں اور اختتام حضرت عائشہ کے حجرے پر کرتے۔ایک مرتبہ حضرت ام سلمی آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور حضور میا سے باتیں کرتے رہے۔ان کے ، الله جانے کے بعد آپ ﷺ نے پوچھا ان کو جانتی ہو؟ عرض کیا آپ ملنے کے جانار صحابی وحیہ کلبی تھے۔آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو وحیہ کلبی کے روپ میں تشریف لائے۔(17) اس طرح اُم سلمی رضی اللہ علما کی بھی جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی۔آنحضرت ﷺ کی آخری بیماری کے دنوں کی بات ہے۔ایک دفعہ حضرت ام سلمی رضی اللہ تھا اور اُم حبیبہ نے جو حبشہ سے ہو آئی تھیں وہاں کے عیسائی معبودوں یعنی گرجہ گھروں کا اور ان کے مجسموں اور تصویروں کا تذکرہ کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا۔ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی مرتا ہے تو اس کے مقبرے کو عبادت گاہ بنا لیتے ہیں۔اور اس کا بُت بنا کر اس میں کھڑا کر دیتے ہیں۔قیامت کے روز خدائے عزو جل کی نگاہ میں یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔(18) آپ کو غزوہ مریسیع ، غزوہ خیبر، فتح مکہ ، صلح حدیبیہ، معرکۂ طائف اور غزوہ حنین میں رسول کریم ﷺ کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا۔(19) غزوہ خندق میں اگر چہ آپ شریک نہ تھیں ، تا ہم اس قدر قریب تھیں کہ