حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 15
أم المؤمنین حضرت ام سلم 15 فرما تھے ، تو صبح مسکراتے ہوئے اٹھے۔آپ بولیں ، اللہ آپ کو ہمیشہ ہنسائے۔اس وقت ہنسی کا سبب کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ابولبابہ کی توبہ قبول ہو گئی۔یہ سن کر ام سلمی" بھی اپنے معزز و مکرم خاوند کی خوشی پر بے حد خوش ہوئیں اور بے اختیار عرض کیا۔یارسول اللہ یہ خبر میں ابو لبابہ کو سُناؤں۔آپ ﷺ نے اجازت دیدی۔اجازت ملتے ہی اُم سلمی اپنے دروازے پر کھڑی ہو گئیں اور پکار کر کہا۔ابولہا بہ مبارک ہو تمہاری توبہ قبول ہو گئی۔پھر کیا تھا۔یہ آواز کانوں میں پڑنی تھی کہ اہل مدینہ ابولبابہ کو مبارکباد دینے کے لئے اکٹھے ہو گئے۔(28) ویسے تو تمام صحابیات میں ہی اطاعت رسول ﷺ کی صفت صل الله پائی جاتی تھی مگر ازواج مطہرات رسول ملے بہت ہی فرمانبردار تھیں۔حضرت ام سلمی ایک دفعہ اپنے حجرہ میں ہال ہوار ہی تھیں کہ رسول کریم ہی ہے منبر پر تشریف لائے اور خطبہ دینا شروع کیا۔ابھی زبان مبارک سے يَا أَيُّهَا النَّاسُ ( یعنی اے لوگو ) ہی نکلا تھا کہ آپ نے اس عورت کو حکم دیا کہ بال باندھ دو۔اس نے کہا اتنی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو حضور ﷺ نے صلى الله يَا أَيُّهَا النَّاسُ ہی فرمایا ہے۔حضرت اُم سلمی اٹھ کھڑی ہو ئیں۔اپنے بال خود باندھے اور غصہ سے بولیں۔کیا ہم آدمیوں میں شامل نہیں ہیں؟ اس کے بعد بڑے توجہ سے پورا خطبہ سنا۔یہ تھی وہ بے مثال اطاعت جو صحابیات کا۔