حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 14 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 14

اُم المؤمنین حضرت ام سلمى 14 کر دیں اور سرمنڈ والیں۔صحابہ خود بخود آپ ﷺ کی اتباع کریں گے۔حضور ﷺ نے آپ کا مشورہ قبول فرمایا۔آپ ﷺ باہر تشریف لائے ، قربانی کی اور سرمنڈوایا۔صحابہ کرام نے جب دیکھا تو سمجھ گئے کہ اس فیصلے میں اب کوئی تبدیلی نہیں تو سب نے قربانیاں دیں اور احرام اُتارے۔ہجوم کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے پر ٹوٹا پڑتا تھا۔اور جلدی میں ہر شخص دوسرے کی حجامت بنانے کی خدمت انجام دے رہا تھا۔(27) حضرت ام سلمی رضی اللہ عنھا بہترین ذوق رکھتی تھیں۔آپ رضی اللہ علھا اپنے مہربان خاوند کی خوشیوں پر بھر پور خوشی کا اظہار کرتیں۔6 ہجری کا واقعہ ہے۔جب غزوہ احزاب کے بعد آنحضور علیہ نے بنو قریظہ کے شریر اور بدعہد یہودیوں کا گھیرہ کیا تو حضرت ابولہا بہ انصاری کو یہودیوں سے گفتگو کیلئے بھیجا۔ابولبابہ ایک سادہ دل صحابی تھے۔دورانِ گفتگو ان سے ایسا اشارہ ہو گیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آنحضور ﷺ کا ارادہ ان کی عزاری کے سبب یہودیوں کو قتل کی سزا دینے کا ہے۔بعد گفتگو انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے تو خدا اور رسول اللہ کے ساتھ خیانت کی ہے۔انہیں اپنی اس غلطی پر اس قدر ندامت ہوئی کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ لیا اور توبہ واستغفار میں مشغول ہو گئے۔چند دن بعد جب حضور اکرم میں نے حضرت ام سلمیٰ" کے ہاں تشریف