حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 13
أم المؤمنین حضرت ام سلمى 13 حضرت ام سلمی رضی اللہ عنھا بڑی عقلمند اور سمجھدار تھیں۔صحیح رائے رکھنے والوں میں ان کا شمار تھا، صلح حدیبیہ کے موقعہ پر آنحضرت مے کو بڑی الجھن پیش آئی جو ام سلمیٰ نے سلجھائی۔(28) واقعہ کچھ یوں ہے کہ کیم ذی القعدہ ہجری صلى الله کو نبی کریم ہے عمرہ کے لئے روانہ ہوئے تو حضرت ام سلمیٰ بھی آپ ملے کے ساتھ تھیں۔مگر کفار نے آپ ملالہ کو ایک کنویں کے پاس جس کا نام صلى الله حدیبیہ تھا، کے مقام پر روک دیا اور آپ ﷺ اور آپ کے قافلے کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا۔چنانچہ حدیبیہ کے مقام پر کفار مکہ اور مسلمانوں کے صلى الله درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔رسول کریم ہے اس پر راضی ہو گئے۔معاہدے کی شرائط ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہ تھیں کیونکہ اس میں لکھا تھا کہ اس سال مسلمان بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں اس لئے صحابہ مغموم اور دل برداشتہ تھے۔مگر آنحضرت علی نے جو بچپن سے ہی عہدوں کے پتے تھے اس معاہدے کی تکمیل کے لئے صحابہ سے فرمایا۔اٹھو اور سرمنڈواؤ اور یہیں قربانی کر لو۔آپ ﷺ نے تین بار یہ ارشاد فرمایا۔مگر غم سے نڈھال صحابہ میں سے کوئی بھی نہ اُٹھا۔اس پر حضرت محمد رسول اللہ کے گھر تشریف لائے اور حضرت اُم سلمیٰ سے شکایت سارا واقعہ بیان کیا۔حضرت اُم سلمیٰ نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ ! یہ صلح مسلمانوں پر بہت شاق گزری ہے جس کی وجہ سے وہ افسردہ اور شکستہ دل ہیں۔آپ ﷺ کسی سے کچھ نہ فرما ئیں بلکہ با ہر نکل کر قربانی