حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 12
أم المؤمنین حضرت ام سلمى 12 حسن و حسین کو خود سے لپٹا لیا اور فرمایا ” اے اہلِ بیت ! تم پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو۔“ یہ دیکھ کر حضرت اُم سلمی رو پڑیں۔آنحضرت ﷺ نے انہیں روتا دیکھ کر رونے کا سبب پوچھا تو عرض کیا۔یا رسول اللہ ! آپ علیہ نے ان بچوں کو صلى الله تو خاص کر لیا اور مجھے اور میرے بچوں کو اہل میں شمار نہ کیا۔آپ علیہ نے فرمایا ! بے شک تم اور تمہاری بیٹی بھی اہلِ بیت میں شامل ہیں۔(23) حضرت ام سلمی رضی اللہ عنھا آنحضرت ﷺ سے بے انتہا محبت کرتیں اور آپ میں اللہ کے آرام کا خیال رکھتیں۔آپ کے پاس ایک غلام تھا جس کا نام سفینہ تھا۔آپ نے اُسے اس شرط پر آزاد کیا کہ آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں وہ ان کی خدمت کرتا رہے گا۔(24) آپ نیکی کا حکم دیتیں اور برائی سے روکتی تھیں۔ایک دن ان کے بھتیجے نے دو رکعت نماز ادا کی۔چونکہ سجدہ گاہ غبار آلود تھی وہ سجدہ کرتے وقت مٹی جھاڑتے۔حضرت ام سلمیٰ نے روکا اور فرمایا۔آنحضرت ﷺ کے ایک غلام افلح نے ایسا کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔تَرَبَ وَجْهَكَ الله یعنی الله تیرا چہرا خدا کی راہ میں خاک آلود ہو۔یا یہ فرمایا کہ:۔6 6 اے اصح اپنا چہرہ مٹی میں ملا ، (25) آنحضرت علیہ کا یہ طریق تھا کہ گھر میں ازواج مطہرات کے سامنے اپنی پریشانی بیان فرماتے اور ان سے مشورہ بھی لیتے۔