حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 11 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 11

أم المؤمنین حضرت ام سلمی 11 آنحضرت عملے کی گفتگو اچھی طرح سنتی تھیں۔فرماتی ہیں کہ مجھے وہ وقت خوب یاد ہے کہ جب سینۂ مبارک غبار سے اٹا ہوا تھا اور آپ ﷺ لوگوں کو اینٹیں اٹھا اٹھا کر دیتے اور اشعار پڑھ رہے تھے کہ دفعتہ عمار بن یاسر پر نظر 66 پڑی فرمایا: '' (افسوس ) ابن سمیه! تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘ (20) حضرت ام سلمی رضی اللہ عنھا نہایت زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں۔آپ بہت سخی اور فیاض تھیں۔ضرورت مندوں ہمسکینوں اور سائلوں کی حاجت پوری کرتی تھیں۔حضرت عمر فاروق نے اپنے عہد حکومت میں دوسری امہات المومنین کی طرح حضرت ام سلمیٰ کا بھی بارہ ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔آپ اس رقم کا بیشتر حصہ خدا کی راہ میں خدا کے بندوں میں تقسیم کر رض دیتی تھیں۔(21) ازواج مطہرات سے پیار کا سلوک رکھتیں۔ہمیشہ ثواب کی متلاشی رہتیں۔ہر مہینہ میں تین دن ( پیر ، جمعرات اور جمعہ ) روزے رکھتیں ، اپنے پہلے شوہر سے جو اولادتھی اُس کی نہایت عمدگی سے پرورش کی۔(22) آنحضرت میں اللہ نے بھی آپ کی اولاد سے محبت کی اور ان پر خصوصی توجہ عنایت فرمائی۔آپ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ میرے گھر پر تھے کہ حضرت فاطمہ تشریف لائیں، حسن و حسین بھی ہمراہ تھے۔حضرت اُم سلمی کے پاس اس وقت ان کی صاحبزادی زیب بھی تھیں۔آنحضرت مل نے فاطمہ