حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ

by Other Authors

Page 14 of 21

حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 14

حضرت اُم سلیم 14 کریں۔اس پراُم سلیمہ کہنے لگیں کہ گھر میں صرف بچوں کے لئے ہی معمولی سا کھانا ہے۔اس صورتحال میں ان دونوں نے یہ ترکیب سوچی کہ بچوں کو کسی نہ کسی طرح ملا دیا جائے اور کھانا مہمان کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مین کھانے کے وقت اُم سلیم چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے انھیں اور اسے بجھا دیا تا کہ حضور منانے کا مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھا لے۔جب مہمان نے کھانا شروع کیا تو دونوں میاں بیوی یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ مہمان کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں اور خالی منہ ہلا کر مچا کے لیتے رہے اس طرح انہوں نے رات بھو کے رہ کر گزار دی۔صبح جب ابوطلحہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ رات میرے مہمان کے ساتھ جو اچھا سلوک تم نے کیا اللہ بھی اس پر خوشی سے مسکرا رہا تھا۔(19) الله حضور ام سلیم اور انصار کی بعض عورتوں کو خدمت کے لئے غزوات میں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور یہ خواتین مشکیں بھر بھر کے لاتیں اور لوگوں کو پانی پلاتیں اسی طرح زخمیوں کی مرہم پٹی بھی کیا کرتی تھیں۔آپ کی جرات کا یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ غزوہ حنین کے موقعہ پر صلى الله آپ کے پاس ایک خنجر دیکھ کر آپ کے خاوند ابوطلحہ نے حضور ﷺ سے