حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 9
حضرت ام مظفر 9 آپ کے مزاح اور نصیحت کے سلسلہ میں ایک اور واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں :۔اتبا جان (حضرت خلیفہ المسیح الثانی ) اور امی جب کبھی سفر پر جاتے تھے تو مجھے اور بھائی خلیل کو عمو صاحب کے ہاں چھوڑ جایا کرتے تھے۔چنانچہ ہمیں بعض اوقات کئی کئی مہینہ آپ کے ہاں ٹھہر نے اور آپ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقعہ ملتا تھا۔ایک مرتبہ رمضان کا مہینہ تھا ، چچی جان بسبب بیماری روزہ رکھنے سے معذور تھیں مگر سحری کے وقت تہجد کی غرض سے اور کچھ کھانے پر خیال رکھنے کی خاطر باقاعدہ ساتھ اُٹھا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ہم سحری کھا رہے تھے کہ کسی خادمہ کی غلطی پر چچی جان نے ذرا اونچی آواز میں اسے سخت سست کہا۔عمو صاحب اُن سے تو کچھ نہ بولے مگر مجھے مخاطب کر کے فرمانے لگے تم جانتے ہو کہ تمہاری چچی جان بیمار میں بیچاری روزے تو رکھ نہیں سکتیں، البتہ ذکر الہی کے لئے اس وقت ضرور اٹھتی ہیں ، وہ دن اور رمضان کا آخری روزہ پھر چچی جان نے کبھی سحری کے وقت آواز بلند نہیں کی۔‘ (7) 13 جنوری 1960 ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل میں اعلان فرمایا کہ حضرت ائتم مظفر احمد اپنی طرف سے حج بدل کی خواہش رکھتی