حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 8
حضرت اُم مظفر 8 پکڑے ٹہل رہے تھے۔کسی کا ذکر ہورہا تھا جس نے حضرت عمق صاحب تیک کسی کی کوئی بات غلط رنگ میں پہنچائی تھی۔جس سے نا حق آپ کے دل میں کچھ رنج پیدا ہو گیا ،مگر چونکہ آپ ہمیشہ ایسے موقع پر متعلقہ شخص سے دریافت کر لیا کرتے تھے۔اس لئے تھوڑے ہی عرصہ بعد آپ کو حقیقت حال معلوم ہوگئی۔چنانچہ اسی کے متعلق آپ مجھ سے افسوس کا اظہار فرمارہے تھے کہ بعض لوگ خواہ مخواہ فتنہ کا موجب بن جاتے ہیں۔یہ سن کر حضرت پیچی جان نے کہا کہ میں آپ کو ہمیشہ کہتی ہوں کہ وہ شخص نا قابل اعتماد ہے مگر پھر بھی آپ اس سے تعلق رکھتے ہیں۔اس پر آپ نے وہیں قدم روک لئے اور ایک ایسی آواز میں جو غصہ والی اور اونچی تو نہیں تھی۔مگر اس میں بے پناہ قوت پائی جاتی تھی۔فرمایا: دیکھو! مجھے ایسا مت کہو ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی کمزوریوں پر لگا ور رکھتا تو اس کا کسی بندہ سے تعلق نہ ہوتا وہ اپنے بندوں کی کسی خوبی پر نظر رکھ کر اس سے تعلق رکھتا ہے پس وہ میری کیسی ہی بدخواہی کرے میں اس سے تعلق نہیں توڑوں گا پھر دھیمی اور نرم آواز میں فرمانے لگے تم جانتی ہو کہ اس میں بعض بہت بڑی خوبیاں بھی ہیں اور پھر ایک دو نمایاں خوبیوں کا ذکر فرمانے لگے۔‘ (6)