حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 7
حضرت ام عمارة نقیب منتخب کئے تو ان میں حضرت اسعد بن زراہ بنو نجار کے سردار تھے۔ہجرت کے بعد کچھ ہی عرصہ بعد حضرت اسعد نے وفات پائی تو صلى الله بنو نجار کے لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول الله ما اسعد کی جگہ اب کسی اور کو بنو نجار کا نقیب مقرر فرما ئیں۔حضور ﷺ نے فرمایا: ” تم لوگ میرے ماموں ہو ، اس لئے اب بنو نجار کا نقیب میں خود ہوں، حضور ﷺ کا یہ ارشا دسن کر بنو نجار کی مسرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔فی الحقیقت یہ ایک عظیم سعادت تھی جو بنو نجار کو حاصل ہوئی۔حضرت ام عمارہ اس عظیم خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔(2) صلى الله ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا۔اگر میں انصار کے کسی گھرانے میں شامل ہوتا تو بنو نجار میں شامل ہوتا۔“ ہجرت کے تیسرے سال کا ذکر ہے شوال کا مہینہ تھا کہ اچانک اہلِ مدینہ کو یہ خبر ملی کہ ابوسفیان تین ہزار کا لشکر جرار لے کر جس میں عرب کے چیدہ چیدہ بہادر شامل ہیں مکہ سے لڑائی کی بھر پور تیاری کر کے نکلا ہے اس لشکر میں ہتھیاروں سے لدے اونٹ اور دوسو بہترین جنگی گھوڑے ہیں اور ان جنگی گھوڑوں کے دستے کی قیادت سپہ سالار خالد بن ولید کے سپرد ہے۔