حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ — Page 6
حضرت ام الفضل لبابة الكبرى 6 ابولہب کے سر پر مارا کہ اسکے سر سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔پھر گرج دار آواز میں بولیں:۔وو ” بے حیا! اس کا آقا موجود نہیں ہے اور تو اس کو کمز ور سمجھ کر مار رہا ہے ابو لہب کو ہمت نہ ہوئی کہ اس بہادر خاتون کا مقابلہ کرے اس نے وہاں سے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔یہ غیرت مند اور بہادر خاتون جنہوں نے ابو لہب جیسے دشمن اسلام اور دشمن خدا کو ایسی رسوائی اور ذلت سے دو چار کیا۔حضرت عباس کی اہلیہ (ابولہب کی بھا بھی ) حضرت ام الفضل تھیں۔تاریخ اسلام میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ یہ واقعہ چاہ زمزم کی چاردیواری کے اندر پیش آیا جس کے قریب ہی حضرت عباس کا مکان واقع تھا۔تاریخ میں حضرت ام الفضل لباتہ الکبری کے ایک بچے خواب کا ذکر بھی ملتا ہے یہ خواب اس مومنہ خاتون کے خدا تعالیٰ کے ساتھ بچے تعلق صلى الله کو بھی ظاہر کرتا ہے۔اور نبی کریم ع کے ساتھ اتھاہ محبت اور عقیدت کی نشاندہی کرتا ہے۔حضرت ام الفضل نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کے جسم مبارک کا کوئی حصہ ان کے گھر میں ہے۔انہوں نے اپنا خواب صلى الله نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کیا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی