حضرت اُمِّ کلثوم ؓ — Page 5
حضرت ام کلثوم بنت حضرت محمد الله 5 خاتون حضرت سودہ بنت زمعہ سے نکاح کر لیا۔ان کے گھر میں آنے سے حضور مے کو بہت سہارا ملا۔دونوں بچیاں ان کی زیر نگرانی پرورش پانے لگیں۔مسلمانوں پر یہ قیامت کے دن تھے کیونکہ مکہ پر عملاً حکومت ابو جہل اور اُس کے وزراء کی تھی جن میں ابوسفیان ، عتبہ وشیبہ اور ولید شامل تھے۔یہ سب سخت اسلام دشمن تھے اور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کا کوئی موقعہ صلى الله ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔جب کفار مکہ نے حضور اللہ کی گرفتاری اور قتل کا منصوبہ بنایا تو خدا نے حضور ﷺ کو ہجرت کی اجازت دے دی۔اس سے پہلے بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر چکے تھے۔آخر ایک روز حضور علیہ نے حضرت ابو بکر صدیق کے ہمراہ مدینہ کو ہجرت فرمائی۔حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ اپنی نئی والدہ حضرت سودہ کے ہمراہ ابھی مکہ میں ہی تھیں۔اُس وقت حالات ایسے تھے کہ حضور نے انہیں اپنے ہمراہ نہ لے جا سکتے تھے۔اس دوران حضرت اُم کلثوم نے اپنی بہن کے ساتھ بہت استقلال اور بہادری کے ساتھ وقت گزارا اور اس کے بعد حضور اللہ نے اپنے صحابی حضرت ابو رافع اور زید بن حارثہ کو مکہ روانہ کیا تا کہ وہ دونوں بچیوں حضرت اُم کلثوم اور حضرت فاطمہ اور آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ