حضرت اُمِّ ہانی ؓ — Page 7
حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنھا کی رات مکہ میں اُن کے گھر آرام فرمارہے تھے۔حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنھا صلى الله فرماتی ہیں کہ اُس روز عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد آپ ﷺ ہمارے گھر سو گئے تھے ہم نے فجر کی نماز ادا کی پھر یہ ارشاد فرمایا :۔يا أُمّ هانى رضى الله عنها جئت إلى بيت المقدس فصيلت فِيهِ ثُمَّ صليت الغداة مَعَكُم الترمزى (۱۷۸/۲) اے اُم ہانی رضی اللہ عنھا میں بیت المقدس گیا وہاں نماز پڑھی اور پھر صبح کی نماز تمہارے ساتھ ادا کی۔حضرت اُم ہانی رضی اللہ علما فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یہ صلى الله بات لوگوں کو نہ بتا ئیں آپ علی کو لوگ جھوٹا کہیں گے۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں لوگوں کو یہ ضرور بتاؤں گا۔آپ ﷺ نے لوگوں کو معراج کے بارے میں بتایا تو وہ حیران رہ گئے۔(9) صلى الله حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنھا کو حضور علیہ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔حضور ﷺ نے مال غنیمت میں سے ان کو چالیس اونٹوں کے بوجھ جتناغلہ عنایت فرمایا۔(10) زمانہ جاہلیت سے یہ حق عورتوں کو ملا ہوا تھا کہ وہ کسی خوف زدہ اور قیدی کو امان دے سکتی تھیں۔اس کا پاس رکھتے ہوئے ہمارے پیارے آقا ! صلى الله حضرت محمد علی نے مسلمان عورت کے مقام و مرتبہ کی حفاظت فرمائی اور