تحفہٴ بغداد — Page 47
تحفه بغداد ۴۷ اردو تر جمه يشاء من عبادہ لا يُسأل سے جسے چاہتا ہے انتخاب کر لیتا ہے۔وہ اپنے عما يفعل وهم يُسألون۔وتلک کاموں سے پوچھا نہیں جاتا اور لوگ پوچھے جاتے الأيام نداولها بين الناس۔ہیں۔اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔وإذا نصر الله المؤمنَ جعَل اور جب خدا مومن کی مدد کرتا ہے تو اس کے کئی له الحاسدين۔تلطَّف بالناس حاسد مقرر کر دیتا ہے۔لوگوں سے لطف کے ساتھ | وترحم عليهم أنت فيهم پیش آ اور ان پر رحم کر تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے بمنزلة موسى فاصبر علی اس لئے ظالموں کے ظلم پر صبر کر۔کیا لوگ یہ گمان کر جور الجائرين۔أحسب بیٹھے ہیں کہ یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لے آئے وہ چھوڑ الناس أن يُتركوا أن يقولوا دیئے جائیں گے اور آزمائے نہیں جائیں گے۔(۲۲) بقية الحاشية تكون وارث کل بقیہ حاشیہ - یکتا اور ایسا منفرد کہ جس کا کوئی ہمتا نہ ہو رسول و نبي وصديق فتُعطى كل اور تو اللہ کی جناب میں آسمانی وجود ہو جائے گا نہ کہ ما أُعْطُوا من الأنوار والأسرار زمینی بلکہ تو یکتا اور واحد ( بے مثل وجود ) غیب میں فنا والبركات والمخاطبات والوحی اور نہاں در نہاں ہو جائے گا۔تب تو ہر رسول، نبی ، والمكالمات وغيرها من آیات اور صدیق کا وارث ہو جائے گا اور جو جوانوار واسرار، رب العالمين۔وبِكَ تُختم الولاية بركات ومخاطبات ، وحی و مکالمات وغیرہ ربّ العالمین وإليك تصدر الأبدال و بک کے نشانات انہیں عطا کئے گئے وہ تجھے بھی دیئے تنكشف الكروب و بک تُسقی جائیں گے اور تجھ پر ولایت ختم ہوگی اور تو ابدال کا محور الغيوث و بک تنبت الزروع بن جائے گا۔تیرے طفیل مشکلات دور ہوں گی اور و بک تدفع البلايا والمحن من بارشیں سیراب کریں گی اور فصلیں اُگیں گی اور تیرے الخاص والعام وأهل الشغور طفیل ہی خواص و عام کے مصائب و شدائد اور والراعي والرعايا والأئمة والأمة سرحدوں میں بسنے والوں اور راعی اور رعایا اور ۵۱