توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 66 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 66

توہین رسالت کی سزا :3 عصماء بنت مروان { 66} قتل نہیں ہے قائلین قتل شاتم نے مدینے کی ایک عورت عصماء بنت مروان کا واقعہ بھی اپنے موقف کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔واقدی اور بعض دوسرے مورخین نے اسے جنگ بدر کے بعد کے واقعات میں تحریر کیا ہے۔مگر اس واقعے کا کتب حدیث اور صحیح مستند تاریخی روایات میں نشان نہیں ملتا۔نیز اس واقعے پر درایت کی رُو سے بھی غور کیا جائے تو یہ درست ثابت نہیں ہوتا۔یہ واقعہ یوں تراشا گیا ہے کہ مدینے میں ایک عورت عصماء نامی اسلام کی سخت دشمن تھی اور آنحضرت صلیال یکم کے خلاف بہت زہر فشاں تھی۔وہ اپنے اشتعال انگیز اشعار میں لوگوں کو آپ کے خلاف بہت اکساتی تھی اور آپ کے قتل پر انگیخت کرتی تھی۔( ابن ہشام اور واقدی نے بعض وہ اشتعال انگیز اشعار بھی نقل کئے ہیں جو عصماء نے آنحضرت صلی اللہ علم کے خلاف کہے تھے۔) (ابن ہشام، سریہ سالم ابن عمیر تقتل ابی عفک و کتاب المغازی للواقدی، ذکر سریہ قتل عصماء بنت مروان و ذکر سریہ قتل ابی عنک) آخر ایک نابینے صحابی عمیر بن عدی نے مشتعل ہو کر رات کے وقت اس کے گھر میں جبکہ وہ سورہی تھی اسے قتل کر دیا اور جب آنحضرت علی ای کم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس صحابی کو ملامت نہیں فرمائی بلکہ ایک گونہ اس کے فعل کی تعریف کی۔(ابن سعد ، سریہ عمیر بن عدی و ابن ہشام ، غزوة عمير بن عدى الخطمی لقتل عصماء بنت مروان) اس واقعے کو مستشرقین نے نہایت ناگوار صورت میں اپنی کتابوں کی زینت بنایا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جرح اور تنقید کے سامنے یہ واقعہ درست ہی ثابت نہیں ہوتا۔پہلی دلیل جو اس کی صحت کے متعلق شبہ پیدا کرتی ہے، یہ ہے کہ کتب احادیث میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔یعنی کسی حدیث میں قاتل یا مقتولہ کے نام کے ساتھ اس قسم کا کوئی واقعہ بیان نہیں کیا گیا۔