توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 48 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 48

توہین رسالت کی سزا 48 } قتل نہیں ہے رسول اللہ صلی الی ظلم کے خلاف کعب کی مخالفت زیادہ خطرناک اور عملی صورت اختیار کرتی گئی اور بالآخر جنگ بدر کے بعد تو اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا اور جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لئے نہایت خطر ناک حالات پید اہو گئے۔اصل بات یہ تھی کہ بدر سے پہلے کعب یہ سمجھتا تھا کہ مسلمانوں کا یہ جوشِ ایمانی ایک عارضی چیز ہے اور آہستہ آہستہ یہ سب لوگ خود بخود منتشر ہو کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائیں گے۔لیکن جب بدر کے موقع پر مسلمانوں کو ایک غیر معمولی فتح نصیب ہوئی اور تقریباً تمام بڑے رؤسائے قریش مارے گئے تو اس نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیا دین یو نہی مٹتا نظر نہیں آتا۔چنانچہ بدر کے بعد اس نے اسلام کے مٹانے میں اپنی پوری کوشش صرف کر دینے کا تہیہ کر لیا۔اس کے دلی بغض و حسد کا سب سے پہلا اظہار اس موقع پر ہوا جبکہ بدر کی فتح کی خبر مدینے پہنچی۔اس خبر کو سن کر کعب نے علی رؤس الا شہاد یہ اعلان کیا کہ یہ خبر بالکل جھوٹی معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ محمد ( صلی ا م ) کو قریش کے ایسے بڑے لشکر پر فتح حاصل ہو اور ملے کے اتنے نامور رئیس خاک میں مل جائیں اور اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر اس زندگی سے مرنا بہتر ہے۔( ابن ہشام ، مقتل کعب بن اشرف۔دار الکتب العلمیہ، بیروت۔ایڈیشن 2001ء وابن سعد، سریہ قتل کعب بن الاشرف، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) پھر جب اس خبر کی تصدیق ہو گئی اور کعب کو یہ یقین ہو گیا کہ واقعی بدر کی فتح نے اسلام کو وہ استحکام دے دیا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ تھا تو وہ غیض و غضب سے بھر گیا۔اس نے فوراً ستے کی راہ لی اور وہاں جا کر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بار کر دیا۔ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی اور اُن کے سینے جذبات انتقام و عداوت سے بھر دیئے۔( ابو داؤد کتاب الخراج۔۔۔۔۔باب کیف کان اخراج الیہود من المدینتہ نیز ابن ہشام ، مقتل کعب بن الا شرف و ابن سعد ، سریہ قتل کعب بن الاشرف ) جب کعب کی اشتعال انگیزی سے اُن کے احساسات میں ایک انتہائی