توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 374
توہین رسالت کی سزا { 374 ) قتل نہیں ہے چاہتا تھا۔وہ اسلام کو مٹانے کے لئے ایک سازش کے تحت شام روانہ ہوا تھا اور وہ وہیں مر گیا۔اسے اللہ تعالیٰ نے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنی کسی سازش میں کامیاب ہو سکتا۔مگر یہ ایک نا قابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے اس کی ان تمام گستاخانہ اور مذموم کارروائیوں پر کبھی اس کے قتل کے لئے اس کے پیچھے آدمی نہیں بھیجے۔یہاں ایک تلخ حقیقت کے اظہار اور انتہائی افسوس کے طور پر عرض ہے کہ ایسے نام نہاد محقق، جو توہین رسول کی سزا قتل ثابت کرنے کے لئے ہر جعلی اور من گھڑت روایتیں پیش کرتے ہیں، ان کے مبلغ علم اور حسن تحقیق کا کرشمہ یہ ہے کہ ابو عامر جیسے دشمن رسول اور دشمن اسلام شخص کو بھی عمدہ کردار کے مالک“ اور ” بھلا مانس“ قرار دے دیتے ہیں۔چنانچہ تو ہین رسالت کے موضوع پر بڑی گہری تحقیق کے دعویدار سپریم کورٹ کے ایک سینئیر ایڈووکیٹ ابو عامر کے بیٹے حنظلہ (جو اسلام کی آغوش میں آچکے تھے ) کا حوالہ دے کر تحریر کرتے ہیں: بچوں کا اچھا کردار والدین کی اچھی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے اور خاص کر آزادی رائے وہی پیدا کر سکتے ہیں جو خود عمدہ کردار کے مالک ہوں۔سو گمان کرنا پڑتا ہے کہ خود ابو عامر بھی بھلا مانس ہی رہا ہو گا۔ناموس رسول اور قانون توہین رسالت، چوتھا ایڈیشن 2010ء صفحہ 214 ) اناللہ وانا الیہ راجعون جن لوگوں کی عقل و دانش کے پیمانے کشت و خون کے سبب اس طرح الٹ پلٹ چکے ہوں، ان سے رسول اللہ صلی ال کر کے ناموس کی حفاظت کی کس طرح امید کی جا سکتی ہے۔یہ ”اپنے ہی دوست “ ہیں جو کمین گاہوں میں چھپ کر رحمتہ اللعالمین صلی الی ظلم کی توہین میں مجھے ہوئے تیر چلا چلا کر آپ کو دنیا بھر میں رسوا کرتے ہیں۔چنانچہ میزان الحق، شیطانی آیات، رنگیلا رسول اور رسالہ ور تمان وغیرہ نے کیا کام کیا ہو گا جو ان ” اپنے ہی دوستوں“ نے کر دکھایا