توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 333 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 333

توہین رسالت کی سزا 333 } } قتل نہیں ہے گداز دل انسان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کسی انسان کو قتل کرا کے تسلی پاتا تھا، سراسر جھوٹ ہے اور اس پر پرلے درجے کا بہتان ہے بلکہ اس سے بھی پرلے درجے کی گستاخی ہے۔یہ چند نمونے کے واقعات ہیں۔جبکہ رسول اللہ صلی ال نیم کی ساری زندگی ایسے واقعات رحم و کرم سے چھلک رہی ہے۔ان واقعات سے کتب احادیث لبریز ہیں۔یہ تمام واقعات چلا چلا کر منادی کرتے ہیں کہ آپ پر کشت و خون کے تمام الزام جھوٹے ہیں۔مذکورہ بالا واقعات آپ کے وسیع دل کی نرم اور گداز نفسیاتی کیفیات کی سچی داستانیں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور اس کی تمام مخلوق کے لئے آپ کے قلب پر، آپ کے دماغ پر اور آپ کی روح پر رحمت و کرم اور بخشش و تر قم کے علاوہ اور کچھ نقش نہ تھا۔وہ آپ پر ایمان لانے والے تھے یا آپ کے دشمن، آپ پر درود بھیجنے والے مومن تھے یا آپ کی شان میں گستاخی کرنے والے ناعاقبت اندیش، سبھی آپ کے عفو و کرم کے سائبان کے ٹھنڈے سایوں میں محفوظ و مامون تھے۔ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنی جان کا خطرہ نہیں تھا۔آپ اگر چہ آقا ہیں مگر کمزوروں کی بندہ پروری فرماتے تھے۔آپ بادشاہ تھے مگر بیکسوں کے خدمت گزار تھے۔وہ مہربانیاں جو مخلوق خدا نے آپ سے دیکھیں وہ کسی نے اپنی ماں سے بھی نہ پائی تھیں۔آپ رحمت کے ساتھ کمزوروں کا ہاتھ پکڑنے والے اور نا امیدوں کے لئے پر شفقت غمخوار تھے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدِمٌ بَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ *****