توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 306 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 306

توہین رسالت کی سزا 306} قتل نہیں ہے عدم اجماع کی ایک اور شہادت: اوپر کی سطروں میں خلفائے راشدین، ائمہ کبار کے ساتھ اہل کوفہ کی شہادتیں پیش کی گئی ہیں کہ وہ کسی نہ کسی رنگ میں قتل شاتم کے قائل نہ تھے۔پھر یہ نام نہاد اجماع اس طرح بھی ٹوٹا ہے کہ قاضی عیاض خود ہی اہل مدینہ کا موقف یوں لکھتے ہیں: وَاخْتَلَفُوا إِذَا سَبَهُ ثُمَّ أَسْلَمَ، فَقِيْلَ - يُسْقِطُ إِسْلَامُهُ قَتْلَهُ لِأَنَّ الإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ ، بِخِلَافِ الْمُسْلِمِ إِذَا سَبَّهُ ثُمَّ تَابَ ( الشفاء صفحہ 822) ترجمہ: ان کا اس میں اختلاف ہے کہ گالی کے بعد جب وہ اسلام قبول کر لے۔کہا جاتا ہے کہ اس کا اسلام اس سے سزائے قتل کو ساقط کر دیتا ہے۔کیونکہ قبول اسلام پہلے کے اعمال کا کفارہ ہو جاتا ہے۔اس کے بر عکس کہ ایک مسلمان گالی دے اور پھر تو بہ کرے۔یعنی غیر مسلم رسول اللہ صلی کم کو گالی دے اور پھر اسلام قبول کرے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور اگر مسلمان گالی دے تو اسے قتل کیا جائے گا۔زیر بحث کتابوں یعنی الشفا اور الصارم المسلول وغیرہ میں یہ بھی بڑی تکرار کے ساتھ اور بار بار لکھا گیا ہے کہ شاتم کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی۔اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا۔مگر ساتھ ہی ان کتابوں میں سے ایک نے اہل مدینہ کے اختلاف کا ذکر کر کے بتا دیا ہے کہ اس پر سب کا اجماع نہیں ہے۔ان کتابوں میں ذقی اور غیر ذمی کے قتل یا عدم قتل کی بحثیں بھی اسی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امت کا اس مسئلے پر قطعی طور پر اجماع نہیں ہے۔ان محکم شواہد کی وجہ سے یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ قتل شاتم رسول پر کسی طور پر بھی اجماع کا دعوی درست نہیں ہے۔بلکہ حقیقت اس کے الٹ ثابت ہے۔کیونکہ خلفائے راشدین، ائمہ اربعہ ، مجد دین، اولیاء اللہ و صلحائے امت جن کے نام اس باب میں درج کئے گئے