توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 304 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 304

توہین رسالت کی سزا 304 | قتل نہیں ہے استہزاء بھی عروج پر ہے۔اسکے باوجو دامت زندہ ہے اور اسلام سرعت کے ساتھ دیگر ادیان پر غالب ہو رہا ہے۔تو مذکورہ بالا تبصرہ: امت کے نبی صلی الی یم کو گالی دی جائے اور امت اسے ختم نہ کرے تو کیا ایسی امت زندہ رہ سکتی ہے ؟ جو شخص کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔امام مالک کا نہیں ہے ، آپ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور یہ قصہ ہی جھوٹا ہے۔یہاں یہ بھی مد نظر رہے کہ ہارون الرشید کے اس سوال میں یہ ذکر موجود ہے کہ بعض علماء اس کے لئے کوڑے تجویز کرتے ہیں۔“ یہ بیان ایک واضح گواہی ہے کہ سب علماء کا شاتم رسول کے قتل پر اجماع نہ تھا۔بعض اس کی سزا کوڑے تجویز کرتے تھے۔حضرت امام شافعی: حضرت امام شافعی کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس معاملے میں وہ سب سے زیادہ متشد د تھے۔مگر ان کا صرف ایک فتویٰ تھا۔لیکن وہ بھی اس طرح بیان ہوا ہے کہ آپ یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ شاتم رسول کا قتل لازم ہے اور اس پر تمام امت مسلمہ متفق ہے۔ان کی اس بات کا کوئی گواہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ ان کا کوئی تحریر شدہ معین فتوی ہے۔البتہ کسی کا محض ایک بے سند بیان ہے جسے امام شافعی کا مسلک قرار دیا گیا ہے۔بفرضِ محال اگر مان بھی لیا جائے کہ امام شافعی قتل شاتم کے قائل تھے اور آپ کا مسلک یہی تھا تو بھی یہ صرف انہی کا مسلک تھا اور شافعیوں کے لئے تو قابل عمل ہو سکتا ہے ، ساری امت کا مسلک یا اجماع قرار نہیں دیا جا سکتا۔