توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 16 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 16

توہین رسالت کی سزا { 16 } قتل نہیں ہے دے۔پھر وہ لکھتے ہیں: "حَدُّ الشَّيْئ - اَلْوَصْفُ الْمُحِيْطُ بِمَعْنَاهُ الْمُمَيِّزُ لَهُ عَنْ غَيْرِهِ کہ کسی چیز کا وہ وصف جو اسے دوسروں سے ممتاز کر دے۔ان معنوں میں اس زیر بحث آیت کا مفہوم انتہائی خوبصورت رنگ میں نکھر کر سامنے آجاتا ہے کہ مخالفوں کی جھوٹی اور ظالمانہ مخالفت اور دشمنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی سچائی کو مزید ممتاز اور روشن کر دیتی ہے۔ان کی مخالفت اور دشمنی ہی دراصل ان کی ناکامی، ذلت اور موت ہے۔ان کی یہ دشمنی ہی حقیقت میں ایک حد فاصل بن جاتی ہے۔جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی ال یکم کو معزز و ممتاز کر دیتی ہے۔یہاں دوسرے معنے بھی بالکل واضح ہیں کہ اگر کوئی دشمنی کی بنا پر ظاہری ہتھیاروں سے حملہ کرے اور لوہے یعنی تیغ و تفنگ کا استعمال کرے تو اس کے دفاع میں لوہے کی یہ چیزیں استعمال کرنی ضروری ہو جاتی ہیں۔رسول اللہ صلی للی کم کا یہ دفاع بھی آپ کو دشمنوں پر غالب اور ممتاز کر دے گا۔یہاں مد نظر رہے کہ يُعادِ د عربی کے قواعد کے مطابق مفاعلہ کا صیغہ ہے۔صیغے کی اس شکل میں مقابلے کا مفہوم بنیادی طور پر شامل ہوتا ہے۔یعنی اگر وہ ہتھیار اٹھائیں تو مقابل پر تمہیں بھی ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے۔چنانچہ اگر یہ صور تحال واقع ہو تو بھی اللہ اور اس کا رسول غالب رہیں گے۔دشمنوں کے اٹھائے ہوئے ہتھیار ہی ان کی دشمنی روکنے کا موجب بن جائیں گے۔یہ وہ عام منظر ہے جو ہمیں رسول اللہ صلی علیم کی تمام زندگی میں نظر آتا ہے کہ آپ کے دشمنوں نے ہتھیار اٹھائے تو وہ ان کے اپنے ہی قلع قمع کا موجب بن گئے۔اس سارے منظر کا گالی گلوچ یا توہین رسالت کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔