توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 5 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 5

توہین رسالت کی سزا ( 5 ) قتل نہیں ہے رکھنے کے اقدام کرتا ہے، اسی پر یہ لوگ نعوذ باللہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ کسی کی گالی پر فوراً اس کے قتل کا حکم دیتا تھا اور اگر اتفاق سے کبھی وہ حکم نہیں بھی دیتا تھا تو بھی صحابہ ایسے شخص کو قتل کر دیتے تھے اور وہ اس سے خوش ہو جاتا تھا۔اِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ازلی ابدی سچائی یہ ہے کہ وہ رحمتہ اللعلمین تو انسان کے ساتھ ماں سے بھی بڑھ کر رحم کے جذبات رکھتا تھا۔آں ترتمہا کہ خلق از وے بدید کس نہ دیدہ در جہاں از مادرے جو رحم اور رحمت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللظلم سے دیکھی وہ اس دنیا میں کسی نے اپنی ماں سے بھی نہ پائی تھی۔اس مذکورہ بالا زیر بحث آیت میں اور مجموعی طور پر بھی قرآن کریم میں جس عذاب الیم کا ذکر ہے ، وہ کافروں، منافقوں، مرتدوں، متکبروں، آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں، حد سے بڑھنے والوں، اللہ کے سوا کسی اور چیز کی عبادت کرنے والوں۔ملحدوں ، ظالموں وغیرہ کے لئے بار بار استعمال ہوا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جن کے لئے یہ وعید بالتاکید موجود ہے ، وہ بھی رسول اللہ صلی لنی کیم کے ارد گرد تھے۔وہ بھی اسی معاشرے میں مسلسل اپنی کارروائیاں کرتے پھرتے تھے۔مگر اس آیت میں مذکور اذیت دینے والوں سمیت وہ تمام افراد جن کے ساتھ عذاب الیم کی وعید منسلک کی گئی ہے ، رسول اللہ صلی الی یکم نے ان میں سے کسی ایک کو بھی اس جرم کی سزا نہیں دی۔بلکہ اسے جرم بھی قرار نہیں دیا۔لہذا اس آیت میں مذکور عَذَاب الیہ کی وجہ سے اگر توہین کرنے والے یا اذیت دینے والے کی سزا قتل قرار پاتی ہے تو دیگر آیات میں مذکور باقی سب لوگوں کی سزا بھی تو ” عذاب الیم “ بیان ہوئی ہے۔وہاں اس سے قتل مراد کیوں نہیں لی جاتی۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی