توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 155
توہین رسالت کی سزا 155} قتل نہیں ہے 21 مرتد کا قتل شاتم رسول کے قتل کے جواز میں ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ ” ابن ماجہ نے روایت کی کہ حضرت معاذ بن جبل نے ایک مرتد کو قتل کی سزا دی۔اس پر فتح القدیر کا مولف لکھتا ہے کہ جو شخص حضور ملی یکم کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرے اس کی گردن اڑادی جائے۔“ (ابن ماجہ جلد 2 ص 281، بحوالہ طبرانی) فتح القدیر نے حوالے کے بغیر یہ روایت ابن ماجہ کے حوالے سے پیش کی ہے جبکہ یہ ت صحیح بخاری کتاب استنابة المرتدین والمعاندین و قتالهم باب حكم المرتد والمرتدة واستا بتهم، ابو داؤد کتاب الحدود اور دیگر کتب میں بھی آئی ہے۔اوّل تو یہ دلیل ہی غلط ہے کہ مرتد کو قتل کیا گیا لہذاوہ شاتم رسول تھا۔اس روایت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو سکتا ہو کہ اس شخص نے کوئی سب و شتم یا کوئی گالی گلوچ کیا تھا۔پس ایسی روایت کو شتم رسول یا توہین رسالت کی سزا قتل کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ہے؟ علاوہ ازیں ایسا حکم نہ قرآن میں ہے نہ آنحضرت صلی علیہ کم کا کوئی ایسا ارشاد موجود ہے کہ جو محض ارتداد اختیار کرے اسے قتل کر دو۔اسے اگر قرار دیا جاسکتا ہے تو حضرت معاذ کی اپنی رائے قرار دیا جا سکتا ہے ، قرآن وحدیث کی ہر گز یہ تعلیم نہیں ہے۔جہانتک اس واقعے کا تعلق ہے تو اس روایت میں باقی سب منظر اور کوائف مخفی ہیں کہ وہ شخص محض ارتداد کی وجہ سے پکڑا گیا تھا یا اس نے کوئی اور جرم یا بغاوت وغیرہ کا ارتکاب کیا تھا کہ وہ فساد فی الارض یا محاربت کے زمرے میں آتا ہو۔چونکہ اس واقعے کے سارے کوائف