توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 126
توہین رسالت کی سزا 126 } قتل نہیں ہے :15 یہ حق رسول اللہ صلی علیم کے سوا کسی اور کے لئے نہیں ہے حسب ذیل روایت بھی اس موقف کے لئے پیش کی جاتی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔چنانچہ لکھا ہے: عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَئِ قَالَ : أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقَ، فَقُلْتُ ، أَقْتُلُهُ فَانْتَهَزَنِ، وَقَالَ، لَيْسَ هُذَا لِاَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ علل و الله سنن النسائی کتاب تحريم الدم باب الحکم فیمن سب رسول الله ل لام و باب ذکر اختلاف على الاعمش في هذا الحدیث) کہ ابو برزہ الا سلمی کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکر پر سخت کلامی کی۔اس پر میں نے عرض کی: میں اسے قتل کر دوں۔اس پر آپ نے مجھے منع کرتے ہوئے فرمایا: یہ رسول اللہ صلی ال نیم کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔دوسری روایات میں حضرت ابو بکر کے یہ الفاظ بھی مذکور ہیں: "لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ علل و السلام اور وَاللهِ مَا كَانَتْ لِبَشَرِ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صل اللہ۔کہ یہ رسول اللہ صلی علیم کے عليه علاوہ کسی اور کے لئے نہیں ہے۔محمد علی لی ایم کے علاوہ کسی اور بشر کے لئے نہیں۔ليْسَ هُذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ الا اللہ میں لفظ ”ھذا “ قابل غور ہے۔یہاں عليه وسلم لفظ هذا سے مراد قتل نہیں ہے۔بلکہ یہ حکم قتل کے اختیار کے لئے آیا ہے یا یہ اظہار احترام اور جذبات کا قائم مقام ہے۔یعنی معنے یہ ہوں گے کہ صرف رسول اللہ صلی علیم کا اختیار تھا کہ آپ ایسا حکم جاری فرماتے۔کوئی اور یہ اختیار نہیں رکھتا۔یا اگر گستاخی کی وجہ سے کسی کو قتل کرنے کا جواز ہو تا تو رسول اللہ صلی ال نیلم کی گستاخی کرنے والے کے لئے ہوتا۔یا یہ کہ اس طرح کے جذبات غیرت و محبت کا اظہار آپ کے لئے ہونا چاہئے کسی اور کے لئے نہیں۔ہماری اس دلیل کی وجہ یہ