توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 77
توہین رسالت کی سزا :6 زینب بنت الحارث ( 77 ) قتل نہیں ہے ایک واقعہ اُس یہودیہ کے قتل کا پیش کیا جاتا ہے جس نے خیبر میں آنحضرت صلی ال ایام کو زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی بلکہ عملاً زہر دے دیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ وہ گستاخ رسول منتھی اس لئے اسے قتل کر دیا گیا۔تفصیل اس واقعے کی یہ ہے کہ فتح خیبر کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں کو خیبر میں رہنے کی اجازت کے ساتھ عام آزادی مل چکی تھی اور ان کے روز مرہ کے کام کاج اب معمول پر آنے لگے تھے۔آنحضرت صلی اللہ کم بھی ابھی وہیں قیام فرما تھے۔اس دوران یہودیوں نے آپ کے قتل کی انتہائی مجرمانہ سازش تیار کی۔اس کے لئے انہوں نے با قاعدہ مشورہ کر کے زینب بنت الحارث کو تیار کیا۔یہ خیبر کے مشہور جنگجو پہلوان مرحب کی بہن تھی اور ایک یہودی سردار سلام بن میشگم کی بیوی تھی۔اس نے حسب سازش انتہائی اخلاص ظاہر کیا اور آپ کے لئے اور آپ کے اب کے لئے بکری کا بھنا ہوا گوشت بھجوانے کی درخواست کی جسے آپ نے قبول فرمایا۔اس نے یہ پتہ کر لیا تھا کہ آپ کو بکری کی دستی (یعنی انگلی ٹانگ کے اوپر والے حصے) کا گوشت مرغوب ہے۔چنانچہ اس نے وہ گوشت بھونا اور اس میں زہر ملایا اور خصوصاً دستی کو خوب زہر آگئیں کیا۔(زرقانی و ابن ہشام بقیہ امر خیبر امر الشاق المسمومة) صحابہ نماز مغرب کے بعد جب آنحضرت صلی علی تم اپنے خیمے کو لوٹے تو اس کو دروازے پر انتظار کرتے پایا۔آپ نے وجہ پوچھی تو اس نے عرض کی کہ وہ آپ کے لئے اور صحابہ کے لئے بکری کا بھنا ہوا گوشت لائی ہے۔آپ نے حسب وعدہ اس کی اس پیشکش کو قبول فرمالیا۔(ابن ہشام