توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 37 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 37

توہین رسالت کی سزا { 37 ) قتل نہیں ہے کر سکتے ہیں تو کشت و خون سے نہیں بلکہ ان اوصاف کے ذریعے جن کی طرف اللہ تعالی ہدایت فرماتا ہے۔سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ (الرعد: 25) ترجمہ : سلام ہو تم پر بسبب اس کے جو تم نے صبر کیا۔پس کیا ہی اچھا ہے گھر کا انجام۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں سلامتی کا انعام اور آخرت میں اچھے گھر کا وعدہ انہی لوگوں کے لئے ہے جو صبر کرتے ہیں۔پس یہ تعلیمات اور ہدایات ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول للہ صلی ا یم اور آپ کے متبعین کو بار بار پیش فرماتا ہے اور ان پر عمل کی بہترین سے بہترین اور اعلیٰ سے اعلیٰ اجر اور انعام کے وعدے کرتا ہے۔خاص طور پر جراحات اللسان پر صبر کی تعلیم درج ذیل آیات ہیں جو خاص طور پر باتوں اور زبان سے لگائے گئے زخموں کے بارے میں سکون افزا، خوبصورت اور دلکش تعلیم پر مبنی ہے۔اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی نیلم کو یہ ہدایت عطا فرماتا ہے: وو اصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ “(ص: 18) ترجمہ: صبر کر اُس پر جو وہ کہتے ہیں اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر جو بڑی دسترس والا تھا۔یقینا وہ عاجزی سے بار بار جھکنے والا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت داؤد علیہ السلام کا خاص طور پر ذکر آپ کے اقتدار ، طاقت اور دسترس کے حوالے سے کیا ہے۔یعنی باوجود اس کے کہ آپ ایسے لوگوں کو جو آپ کے لئے صبر کی آزمائش کا موجب تھے، اپنی غیر معمولی طاقت کے ذریعہ ختم کر سکتے تھے۔