توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 311 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 311

توہین رسالت کی سزا { 311 ) قتل نہیں ہے شامل نہیں ہوئے حالانکہ اس وقت آپ کی عمر کم و بیش اٹھارہ میں سال تھی۔اس عمر میں تو نوجوان لڑنے بھڑنے میں اپنی طاقت اور مہارت کے جوہر دکھاتے ہیں اور اپنی جان کی پر واہ تک نہیں کرتے۔پس آپ کا یہ طرز عمل بتاتا ہے کہ آپ کو لڑائی طبعا نا پسند تھی اور آپ فطرتا امن پسند تھے اور صلح بجو۔یہ منظر بھی قابل دید ہے کہ نبوت کے بعد جو جنگیں رسول اللہ صلیالی تم پر مسلط کی گئیں، ان میں گو آپ ہمیشہ میدانِ جنگ کے عین وسط میں رہے مگر آپ کی تلوار سے کوئی قتل نہیں ہوا۔سوائے ایک شخص ابی بن خلف کے جو غزوہ احد میں للکار تا ہوا اور لا نَجَوْتُ إِنْ نجا (کہ اگر آپ بچ گئے تو پھر گویا میں نہ بچا پکارتا ہوا آپ کے سامنے آیا۔صحابہ نے اسے روکنا چاہا مگر آپ نے فرمایا کہ اسے آگے آنے دو۔جب وہ آپ کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ نے اس پر نیزے سے وار کیا جس سے وہ چکرا کر گرا اور پھر چیختا چلاتا ہو ابھاگ گیا۔گوز خم بظاہر زیادہ نہ تھا۔کفار اسے تسلی بھی دیتے تھے کہ زخم کوئی ایسا نہیں ہے جو مہلک ہو مگر وہ اس ضرب سے کچھ ایسا دہشت زدہ تھا کہ مکے پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں سرف کے مقام میں ہلاک ہو گیا۔(ابن ہشام مقتل ابی بن خلف۔غزوۃ احد الجزء الثالث صفحہ 19) حلف الفضول: اپنے طبعی رجحان کے تحت ہمیشہ آپ نے رفاہی کاموں میں اور معاشرے کی بہبود میں بھر پور حصہ لیا۔تاریخ نے اس حقیقت کو تفصیل کیسا تھ محفوظ کیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ پہلے کسی وقت عرب کے بعض نیک دل اشخاص کو یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ ایسا معاہدہ کریں کہ وہ ہمیشہ حقدار کو اس کا حق حاصل کرنے میں مدد دیں گے اور ظالم کو اس کے ظلم سے روکیں گے۔اس معاہدے