توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 278
توہین رسالت کی سزا 278 } قتل نہیں ہے قتل کیا جائے تو وہ باتیں باقی رہ جاتی ہیں جو اُن کی غلیظ زبانوں سے نکلتی ہیں اور اس وقت تک نہیں مٹتیں جب تک ان کا جواب دے کر انہیں نہ مٹایا جائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ایک انتہائی سنہری اصول اور ایک قیمتی سبق عطا فرمایا ہے: لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيِي مَنْ حَيَّ عَنْ بينة (الانفال:43) کہ جو ہلاک ہو وہ کھلی کھلی حجت کی رُو سے ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہو وہ کھلی کھلی حجت کی رُو سے زندہ رہے۔یعنی اصل ہلاکت جسم کی نہیں دلیل کی ہے اور بینہ کی ہے اور اصل زندگی بھی دلیل اور بینہ کی ہے۔کیونکہ انسان تو مر جاتا ہے مگر بینہ نہیں مرتی۔پس یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی یی کم کا پاک نمونہ ایک بینہ ہے اور اسلام کی روشن تعلیم ایک بینہ ہے۔انہیں کسی زبر دستی یا درشتی اور سختی کی ضرورت نہیں۔انہیں قتل و غارت اور کشت و خون کی بھی ہر گز حاجت نہیں۔انہیں دراصل سچائی، نیک عمل اور دلیل و برہان کی ضرورت ہے۔یہ عناصر ہیں جو ہر حال میں اور ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں۔رسول اللہ صلی علیم نے نرمی اختیار کرنے کی تعلیم پر مبنی اپنے فرمودات میں داراصل اسی بات کی فکر فرمائی ہے کہ اگر ایک شخص کو اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ اس نے آپ پر کوئی الزام لگایا یا کوئی تہمت باندھی تھی یا آپ کی شان میں گستاخی کی تھی تو یہ بعینہ ٹوٹ جائے گی۔یعنی لوگ باتیں کریں گے کہ آپ الزام یا تہمت دور نہیں کر سکتے بلکہ لوگوں کو قتل کروا کے زبان بند کرواتے ہیں۔گویا آپ کی تعلیم میں نعوذ باللہ کوئی علمی طاقت نہیں تھی، آپ کے اسوہ حسنہ میں کوئی قوت قدسیہ نہیں تھی اور آپ کی سنت مبارکہ میں کوئی روحانی تأثیر نہیں تھی کہ اپنے اوپر سے الزام دور کر سکتی۔چنانچہ اس حقیقت سے ، گو ہے یہ کڑوی ، کون انکار کر سکتا ہے کہ تشدد اور شدت پسندی اور غارت گری کے باعث بُری شہرت اسلام کی مقدرہ ترقی کی راہ میں بڑی روکیں ہیں۔رسول اللہ صلی للی کم نے ہر ممکن قربانی دے کر ان روکوں کو دور فرمایا تھا۔یہ در حقیقت