توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 166
***** توہین رسالت کی سزا { 166 } قتل نہیں ہے مکرر عرض ہے کہ محمد بن ابی بکر ان باغیوں میں سے تھے جنہوں نے راشد خلیفہ حضرت عثمان سے وہ قمیص اتارنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا تھا کہ منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں گے مگر تم ہر گز نہ اتارنا۔مگر محمد بن ابی ر بکر نے انتہائی ظالمانہ عمل سے ردائے خلافت کو اتارنے کے مطالبے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔لہذا ان کے کسی فعل کو کس طرح ایک شرعی مسئلے کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے یا اس کی تائید میں ان کا ایسا فعل کیونکر بطور دلیل لیا جا سکتا ہے۔اگر تاریخی حقائق سے منہ نہ موڑا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ محمد بن ابی بکر صرف حضرت ابو بکر کے صاحبزادے تھے۔اس کے علاوہ ان میں کوئی خصوصیت نہ تھی۔ان کی زندگی دینی لحاظ سے تلخ حقیقتوں سے لبریز ہے تو انجام اس سے بھی زیادہ بھیانک۔چنانچہ بعد میں جب وہ مصر میں والی تھے تو انہیں وہیں قتل کیا گیا اور ان کی لاش کی نا قابل بیان حد تک بے حرمتی کی گئی۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبصَارِ ایسے شخص کو جس کے ساتھ صرف مقدس باپ کا نام لگا ہو ، جبکہ اس کا اپنا دامن دینی خدمات سے تہی ہو ، ہاتھ ظلم و گستاخی سے رنگے ہوئے ہوں، زبان مقدسوں کی توہین و تنقیص سے تر ہو، کسی دینی مسئلے میں سند قرار دینا یا اس کا عمل سند کے طور پر پیش کرنا یقیناً دین سے کھلا کھلا کھلواڑ ہے اور حسین شریعت اسلام و سیرت محمد ی سے مذاق ہے۔