توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 156
توہین رسالت کی سزا 156 قتل نہیں ہے موجود نہیں اس لئے ایک اہم مسئلے میں قرآن کریم کی واضح آیات کے خلاف فیصلہ ہر گز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جہاں کوئی حدیث، اثر یاروایت جو خواہ کیسی بھی مستند کیوں نہ ہو ، اگر واضح طور پر قرآن کریم کی کسی آیت یا حکم کے خلاف ہو تو اسے رڈ کر کے قرآن کریم کے حکم کو اپنایا جاتا ہے۔چنانچہ یہ روایت بہت سی احادیث صحیحہ کے تو خلاف ہے ہی مگر قرآن کریم کی واضح آیات بھی اس کو ر ڈ کرتی ہیں۔(ایسی کچھ آیات حضرت امام بخاری کے حوالے سے دسویں نمبر پر مذکور روایت " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ“ کے ضمن میں تحریر کی جا چکی ہیں) اوّل تو کسی صحابی کی رائے کو قرآن پر اور واضح فرموداتِ رسول پر فوقیت یا ترجیح نہیں دی جاسکتی۔دوسرے یہ کہ حضرت معاذ بن جبل ان چنیدہ چار صحابہ میں سے ہیں جن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: "خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَربعة“ (ترمذی ابواب المناقب باب مناقب عبد اللہ بن مسعود و أسد الغابہ معاذ بن جبل کہ ان چار سے قرآن سیکھو۔ان سے ایسی بات کی توقع کرنا جو قرآن کریم کی واضح تعلیم کے خلاف ہو ، ممکن نہیں ہے۔اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حوالہ دیا ہے تو اس کا لازما مطلب یہی ہے کہ تفصیلی واقعہ کچھ اور تھا جو اس روایت میں پورا محفوظ نہیں ہو سکا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری نے جو تفصیل بتائی تھی (جو غالباً روایت میں ریکارڈ نہیں ہو سکی) اس کے مطابق لاز م وہ بغاوت یا فساد کا کوئی عادی مجرم تھا جو قرآنی حکم کے تحت آتا تھا۔ورنہ محض ارتداد اختیار کرنے والے کے لئے قرآن کریم کسی ایک جگہ بھی قتل کی سزا تجویز نہیں فرماتا۔چنانچہ گزشتہ صفحات میں روایت نمبر 10 کے تحت صحیح بخاری میں امام بخاریؒ کی پیش فرمودہ وہ تمام آیات درج کی گئی ہیں جن میں مرتد کے قتل کی ممانعت ہے۔)