توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 147
توہین رسالت کی سزا { 147 } قتل نہیں ہے للنشر الموتمن للتوزيع) کہ جس نے میرے صحابی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی۔اس کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا کہتے ہیں وہ در اصل رسول الله صلى اللیل کم کو ( نعوذ باللہ ) برا بھلا کہتے ہیں بلکہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہتے ہیں۔اس سے اندازہ لگائیں کہ اگر لفظ سب کے معنے عرفِ عام والی گالی کریں تو اس کی زد میں کون کون آتا ہے۔پس اس زیر بحث خود ساختہ روایت کے حصے ” مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَاضْرِبُوهُ کا قانون اگر انصاف اور عدل کے تقاضوں کے تحت جاری کیا جائے تو دیکھیں کہ بات کہاں سے کہاں تک جا پہنچتی ہے۔صحابی کو سب کرنے سے اگر بدنی سزا دینا رسول اللہ صلی للی کمر کا بیان فرمودہ اور قائم کردہ ایک قانون تھا تو ان تمام سب کرنے والوں کو کیوں زدو کوب نہیں کیا جاتا رہا؟ نیز اس زیر بحث روایت کے خلاف کھڑی ان صحیح حدیثوں کو عمد کیوں نظر انداز کر دیا گیا ہے جو عفو و در گزر اور گستاخی کرنے والوں کو معاف کرنے کا سبق دیتی ہیں ؟ ظاہر ہے کہ ایسے سوالوں کا سوائے اس کے اور کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ زیر بحث روایت ہی بتمام وجوہ قابل رڈ ہے۔سب و تو بین خواہ رسول اللہ صلی للی کمر پر کی جاتی تھی یا صحابہ پر ، اس کی سزا قتل یا کوڑے لگانا نہیں تھی، لہذا تاریخ گواہی دیتی ہے کہ کبھی بھی یہ سزا نہیں دی گئی۔ا: روایت کے متن کا تجزیہ : اس زیر بحث روایت کے پہلے حصہ میں چار الفاظ ہیں: من جو۔یعنی کوئی بھی ہو۔چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔مسلمانوں میں بھی وہ کسی بھی فرقے یا مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو، بلا استثناء من‘ کے احاطہ میں آتا ہے۔